*شکر ایک ایسا وصف ہے کہ جو اگر زبان کو نصیب ہوجائے تو جسم نوازا جاتا ہے اور اگر زبان ناشکری کرے تو ملے گا تو وہی جو نصیب میں لکھ دیا گیا ہے لیکن *اخروی ابدی خسران* بھی جھیلنا پڑے گا۔رب کائنات کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ_*اگر تم شکر کروگے تو ہم اور دیں گے*_۔اب یہ شکرسو دانےوالی تسبیح تک محدود رہے گا تو عملی زندگی میں نعمتیں نظر نہیں آئیں گی ورنہ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے شام و سحر رب کی ان گنت نعمتیں ہیں جو ادارک کے ساتھ استعمال کریں تو پھر انسان ہر وقت تسبیح کی بجائےاپنے خالق مالک رازق سے رازونیاز کی باتیں کرتا رہتا ہےکہ میرے مولا جتنا احسان تو نے مجھ پر کیا ہے شاید اور کسی پر نہیں ہوا۔ یہ باتیں بندے کو رب کے انتہائی قریب کردیتی ہیں اور شاید شمار سے بے نیاز کردیتی ہیں 

رب کو اپنے قریب جانیں اسکو ایک زندہ ہستی کے طور پر دریافت کریں اسکو دل کے حال زبان دل سےسنائیں ۔اپنا سب سے بڑا مسئلہ رب کی شناخت اسکی دریافت کو بنائیں کہ وہ کریم ہستی جو آپکے تمام دنیاوی اور اخروی مسائل کو جانتی ہے اسکو اپنا ببنانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر ساری کامیابیاں حاصل ہوگئیں۔اور یہی وہ کامیابی ہے جسےفوز العظیم کہا گیا ہے♥️


‼️ *محمد آصف*‼️

Comments

Popular posts from this blog

کامیابی