Posts

 یہ دنیا خواہشات  کے پورا ہونے جگہ نہیں ہے ۔ہمیں خالق کائنات نے دنیا بنانے نہیں بلکہ دنیا میں آخرت بنانے کےلیے بھیجا ہے ۔یہاں حالات اچھے بھی آئیں گے اور آزمائش بھی آئے گی ۔یہاں ایمان اور اخلاق کا امتحان ہے جو اصل ہے جو اس امتحان میں کامیاب ہوگیا وہ *ابدی جنت کا مالک بن جائے گا اور جو یہ نہ کرسکا وہ ابدی جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے ۔آج ایک بجھی ہوئی دیا سلائی جسم کے کسی حصے کو چھو جائے تو کتنی دیر بے چینی رہتی ہے لیکن کمال جرآت سے کہتے ہیں کہ کبھی تو جہنم سے نکل ہی آئیں گے _صرف محشر کی سختی_ اور رسوائی ہی ایسی ہے کہ اس زندگی کے سو سال ایک سجدے میں گزاردئیے جائیں کجا یہ کہ ساری زندگی نافرمانی میں گزاردی جائے۔ اسکے مقابلے میں جنت ایک ایسی بستی ہے کہ جسکو پانے کی قیمت اتنی کم ہے کہ صرف محشر کے پچاس ہزار سال کے مقابلے میں اس اڑھائی منٹ کی زندگی کو سو دفعہ قربان کیا جاسکتا ہے لیکن وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا  کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا  محمد آصف
* شکر ایک ایسا وصف ہے کہ جو اگر زبان کو نصیب ہوجائے تو جسم نوازا جاتا ہے اور اگر زبان ناشکری کرے تو ملے گا تو وہی جو نصیب میں لکھ دیا گیا ہے لیکن *اخروی ابدی خسران* بھی جھیلنا پڑے گا۔رب کائنات کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ_*اگر تم شکر کروگے تو ہم اور دیں گے*_۔اب یہ شکرسو دانےوالی تسبیح تک محدود رہے گا تو عملی زندگی میں نعمتیں نظر نہیں آئیں گی ورنہ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے شام و سحر رب کی ان گنت نعمتیں ہیں جو ادارک کے ساتھ استعمال کریں تو پھر انسان ہر وقت تسبیح کی بجائےاپنے خالق مالک رازق سے رازونیاز کی باتیں کرتا رہتا ہےکہ میرے مولا جتنا احسان تو نے مجھ پر کیا ہے شاید اور کسی پر نہیں ہوا۔ یہ باتیں بندے کو رب کے انتہائی قریب کردیتی ہیں اور شاید شمار سے بے نیاز کردیتی ہیں  رب کو اپنے قریب جانیں اسکو ایک زندہ ہستی کے طور پر دریافت کریں اسکو دل کے حال زبان دل سےسنائیں ۔اپنا سب سے بڑا مسئلہ رب کی شناخت اسکی دریافت کو بنائیں کہ وہ کریم ہستی جو آپکے تمام دنیاوی اور اخروی مسائل کو جانتی ہے اسکو اپنا ببنانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر ساری کامیابیاں حاصل ہوگئیں۔اور یہی وہ کامیابی ہے جسےفوز...

کامیابی

​ کامیابی انسان کی فطری خواہش ہے۔ ہر انسان کامیاب ہونا چاہتاہے کچھ امتحان دیکر اور کچھ بغیر امتحان کامیاب ہونا چاہتے ہیں جہنم سے بچ کرجنت میں جانا حقیقی کامیابی ہے باقی ساری کامیابیاں عارضی اور غیر حقیقی ہیں اور یہ کامیابی صرف اسکو ملے گی جو مکمل ایس او پیز پر عمل کریگا۔ گھر میں بیوی بچوں کے حقوق ۔والدین کے حقوق۔بہنوں اور بھائیوں کے حقوق۔ہمسائیوں کے حقوق ۔رشتہ داروں کے حقوق۔ماتحتوں اور باس کے حقوق۔گھر میں کام کرنے والوں کے حقوق ایک مومن کا دل خوف اور رجا کے درمیان رہتا ہے کرتا بھی ہے اور ڈرتا بھی ہے۔اللہ اور اسکے رسول کو راضی کرنے کا نام کامیابی ہے 
​ اس دنیا میں انسان امتحان کی غرض سے سکونت پذیر ہے خود چنیدہ امتحان میں کامیابی کا دارومدار صحیح راستے کا چناو ہے یہ چنوتی اتنی کثیر الجہات ہے کہ اگر گہرائی میں جاکر تجزیہ کیا جائے تو نجات صرف رب کی رحمت میں ہی نظر آتی ہے۔حقوق اللّہ کو ہم نے ثانوی درجہ دے رکھا ہے کہ اللّہ معاف کریگا ۔کیسے کریگا؟ اس پر غور کی کبھی نوبت ہی نہیں آئی۔رب ہونے کے ناطے جو نعمتیں اس نے ہمیں عطا کررکھی ہیں ان کا شمار کرنے بیٹھیں تو گنتی ختم ہوجائے اور حساب کرنے بیٹھیں تو ایک ایک نعمت کے شکر پر زندگی ختم ہوجائے ۔ایک چائے کی پیالی پلانے والے کا احسان تو چکانے والے زندگی بھر یاد رکھتے ہیں لیکن رب کائنات کا ممنون احسان تو ردکنار شعور بھی شاید نہیں ہے جو حقوق اللّہ کو نہ پہچاننے کی بنیادی وجہ ہے۔ محمد آصف