یہ دنیا خواہشات کے پورا ہونے جگہ نہیں ہے ۔ہمیں خالق کائنات نے دنیا بنانے نہیں بلکہ دنیا میں آخرت بنانے کےلیے بھیجا ہے ۔یہاں حالات اچھے بھی آئیں گے اور آزمائش بھی آئے گی ۔یہاں ایمان اور اخلاق کا امتحان ہے جو اصل ہے جو اس امتحان میں کامیاب ہوگیا وہ *ابدی جنت کا مالک بن جائے گا اور جو یہ نہ کرسکا وہ ابدی جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے ۔آج ایک بجھی ہوئی دیا سلائی جسم کے کسی حصے کو چھو جائے تو کتنی دیر بے چینی رہتی ہے لیکن کمال جرآت سے کہتے ہیں کہ کبھی تو جہنم سے نکل ہی آئیں گے _صرف محشر کی سختی_ اور رسوائی ہی ایسی ہے کہ اس زندگی کے سو سال ایک سجدے میں گزاردئیے جائیں کجا یہ کہ ساری زندگی نافرمانی میں گزاردی جائے۔

اسکے مقابلے میں جنت ایک ایسی بستی ہے کہ جسکو پانے کی قیمت اتنی کم ہے کہ صرف محشر کے پچاس ہزار سال کے مقابلے میں اس اڑھائی منٹ کی زندگی کو سو دفعہ قربان کیا جاسکتا ہے لیکن

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا 

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا 


محمد آصف

Comments

Popular posts from this blog

کامیابی